:
Breaking News

Delhi News: ستیندر جین گرفتار، دہلی جل بورڈ کے ایس ٹی پی ٹینڈر معاملے میں سابق سی ای او سمیت 6 افراد پر کارروائی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | ستیندر جین کو دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ٹینڈر معاملے میں گرفتار کیا گیا، اے سی بی نے سابق سی ای او سمیت 6 افراد کو حراست میں لیا۔

نئی دہلی، 19 اگست۔ دہلی کے سابق وزیر اور عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما ستیندر جین کو دہلی حکومت کی اینٹی کرپشن برانچ نے دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ یعنی ایس ٹی پی منصوبوں کے ٹینڈر سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔ جین کے ساتھ دہلی جل بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر ادت پرکاش رائے اور چار دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اے سی بی کے مطابق معاملہ ٹینڈر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، شرائط میں تبدیلی اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔

گرفتار کیے گئے دیگر افراد میں دہلی جل بورڈ کے سابق کنٹریکٹ کنسلٹنٹ انکت سریواستو کے علاوہ ناگیندر یادو، راجا کمار کُرا اور پنکج ورما شامل ہیں۔ اے سی بی نے کارروائی سے پہلے تمام ملزمان سے پوچھ تاچھ کی اور اس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ مقدمہ 11 مئی 2024 کو دہلی حکومت کے محکمہ نگرانی کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی توسیع اور جدید کاری کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈروں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔

تحقیقاتی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ٹینڈر کی کچھ تکنیکی شرائط اس انداز میں تیار کی گئی تھیں جس سے ایک مخصوص ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ اے سی بی نے اپنی تفتیش میں ٹینڈر کے عمل، تکنیکی شرائط اور متعلقہ مالی لین دین کی بھی جانچ کی ہے۔

مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کا الزام

اے سی بی کی تفتیش کا ایک اہم پہلو یوروٹیک انوائرمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی شرائط اس طرح رکھی گئیں کہ مقابلہ محدود ہو اور مذکورہ کمپنی کو فائدہ حاصل ہو۔

تحقیق میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ مجوزہ پائلٹ اسٹڈی نہیں کرائی گئی، جبکہ ٹینڈر میں ٹیکنالوجی اور استعمال ہونے والے میڈیا سے متعلق ایسی شرائط شامل کی گئیں جو بعض کمپنیوں کے لیے رکاوٹ بن سکتی تھیں۔

ایجنسی کے مطابق ٹریٹ کیے گئے پانی کے معیار سے متعلق کچھ ضروری شرائط بھی ٹینڈر میں شامل نہیں کی گئیں اور تکنیکی وضاحتوں میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اے سی بی کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کا سرکاری خزانے پر مالی اثر پڑا۔

یہ تمام نکات فی الحال تحقیقاتی ایجنسی کے الزامات کا حصہ ہیں اور معاملے کا حتمی فیصلہ عدالت میں ہونا باقی ہے۔

ای ڈی بھی پہلے داخل کر چکی ہے چارج شیٹ

اسی معاملے سے متعلق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی کارروائی کر چکا ہے۔ ای ڈی نے دسمبر 2025 میں ستیندر جین سمیت 14 افراد کے خلاف قانونی شکایت داخل کی تھی۔ ای ڈی کے مطابق دہلی جل بورڈ کے ایس ٹی پی سے متعلق چار ٹینڈروں میں مبینہ طور پر 17.7 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی ہوئی تھی۔

ای ڈی کی کارروائی بھی اسی بنیادی معاملے سے جڑی ہوئی تھی، جس میں دہلی جل بورڈ کے ایس ٹی پی منصوبوں کے ٹینڈروں میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کی گئی۔

مبینہ مالی لین دین بھی تفتیش کا حصہ

اے سی بی کی موجودہ تفتیش میں مالی لین دین کا پہلو بھی اہم ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایجنسی نے تقریباً 1.52 کروڑ روپے کے مبینہ مالی لین دین کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے، جسے سابق ڈی جے بی سی ای او ادت پرکاش رائے سے جوڑا گیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ٹینڈر کے فیصلوں، متعلقہ افراد اور مبینہ مالی لین دین کے درمیان کیا تعلق تھا۔

ستیندر جین پہلے بھی گرفتار ہو چکے ہیں

ستیندر جین کی یہ گرفتاری ان کے لیے پہلا قانونی معاملہ نہیں ہے۔ انہیں 2022 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک الگ منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ بعد میں 2024 میں انہیں ضمانت مل گئی تھی۔

اب دہلی جل بورڈ کے ٹینڈر سے متعلق نئے معاملے میں اے سی بی کی گرفتاری نے دہلی کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے۔

عام آدمی پارٹی نے لگایا سیاسی انتقام کا الزام

گرفتاری کے فوراً بعد عام آدمی پارٹی نے اسے سیاسی کارروائی قرار دیا۔ پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ستیندر جین کو بی جے پی کے اشارے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ کیجریوال نے اس معاملے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جین کے خلاف یہ مقدمہ بھی پہلے کے معاملے کی طرح ثابت نہیں ہوگا۔

دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی نے بھی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کا استعمال سیاسی مخالفین کے خلاف کیا جا رہا ہے اور عام آدمی پارٹی ستیندر جین کے ساتھ کھڑی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے بھی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس وقت متعلقہ ٹینڈر کا معاملہ تھا، اس وقت ستیندر جین جیل میں تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کی اصل وجہ پنجاب میں ہونے والے آئندہ انتخابات ہیں۔

بی جے پی کا پلٹ وار

عام آدمی پارٹی کے الزامات کے جواب میں بی جے پی نے سیاسی انتقام کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ مرکزی وزیر اور دہلی بی جے پی صدر ہرش ملہوترا نے کہا کہ ایس ٹی پی معاملے میں ہونے والی گرفتاریاں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا نتیجہ ہیں۔

بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ سابق دہلی حکومت کے دور میں سیوریج اور یمنا کی صفائی کے نام پر عوامی رقم کے استعمال میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی سے اس معاملے میں جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔

اب عدالت میں آگے بڑھے گا معاملہ

ستیندر جین اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے بعد اب تفتیش کا اگلا مرحلہ اہم ہوگا۔ اے سی بی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ٹینڈر کی شرائط میں تبدیلی، متعلقہ افراد کے درمیان رابطے اور مبینہ مالی لین دین کے درمیان کیا تعلق تھا۔

مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ ملزمان کو قانون کے مطابق اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

تازہ پیش رفت میں اے سی بی نے ستیندر جین کے لیے 14 روزہ عدالتی حراست کی درخواست بھی کی ہے اور معاملے کی عدالتی کارروائی جاری ہے۔

یمنا اور سیوریج منصوبے بھی بحث کے مرکز میں

یہ معاملہ صرف ایک ٹینڈر تک محدود نہیں ہے۔ دہلی میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی صلاحیت بڑھانا اور گندے پانی کو صاف کرکے یمنا میں آلودگی کم کرنا طویل عرصے سے حکومت کے لیے بڑا مسئلہ رہا ہے۔

دہلی جل بورڈ کے مختلف ایس ٹی پی منصوبوں پر ماضی میں بھی توسیع اور جدید کاری کا کام ہوتا رہا ہے۔ اسی لیے ان منصوبوں کے لیے ہونے والے بڑے ٹینڈروں میں شفافیت اور سرکاری رقم کے درست استعمال کا سوال خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دہلی میں ایس ٹی پی کے بنیادی ڈھانچے اور یمنا کی صفائی کے منصوبے ایک دوسرے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔

گرفتاری نے دہلی کی سیاست کو پھر گرم کیا

ستیندر جین کی گرفتاری کے بعد ایک بار پھر عام آدمی پارٹی اور بی جے پی آمنے سامنے ہیں۔ ایک طرف اے اے پی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف بی جے پی اسے بدعنوانی کے خلاف کارروائی بتا رہی ہے۔

فی الحال اس معاملے میں سب سے اہم پیش رفت عدالتی کارروائی اور اے سی بی کی تفتیش ہوگی۔ آنے والے دنوں میں اگر تحقیقاتی ایجنسی مزید شواہد یا مالی لین دین کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھتی ہے تو معاملے کی سمت مزید واضح ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

دہلی جل بورڈ سے متعلق پرانے معاملے میں ای ڈی کی کارروائی، چارج شیٹ میں کئی نام شامل

یمنا کی صفائی کے لیے دہلی میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی جدید کاری پر زور

گرفتاری کے بعد اصل سوالات تفتیش کے نتائج سے طے ہوں گے

ستیندر جین کی گرفتاری نے سیاسی بیان بازی کو تیز کر دیا ہے، لیکن اس معاملے کی اصل اہمیت تفتیش اور عدالتی کارروائی کے نتائج میں ہے۔ اے سی بی نے ٹینڈر کی شرائط، تکنیکی فیصلوں اور مالی لین دین کو اپنی تحقیقات کا حصہ بنایا ہے۔

دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے سیاسی انتقام کا الزام لگاتے ہوئے کارروائی کی نیت پر سوال اٹھایا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ الزامات اور سیاسی دعووں کے بجائے عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر معاملے کو دیکھا جائے۔

اگر تحقیقاتی ایجنسی کے الزامات شواہد سے ثابت ہوتے ہیں تو یہ سرکاری ٹینڈروں میں شفافیت اور عوامی رقم کے استعمال سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہوگا۔ اگر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو ملزمان کو قانونی راحت مل سکتی ہے۔ فی الحال معاملہ تفتیش اور عدالت کے سامنے ہے اور حتمی فیصلہ قانونی عمل کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *